دلاور علی آذر اردو کے عہدِ حاضر کے اُن شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے کم عمری میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔ 21 نومبر 1984ء کو حسن ابدال، ضلع اٹک (پنجاب) میں پیدا ہونے والے دلاور علی آذر کا تعلق ایک ایسے خطے سے ہے جو روحانی اور تہذیبی روایت کا امین رہا ہے۔ یہی فضا ان کی شخصیت اور شاعری میں گہرائی، وقار اور فکری توازن پیدا کرتی ہے۔ اگرچہ ان کی رسمی تعلیمی اسناد کی مکمل تفصیلات عام طور پر دستیاب نہیں، تاہم ان کے کلام سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ مطالعے، مشاہدے اور فکری ریاضت کے ذریعے شعر و ادب کی مضبوط تربیت رکھتے ہیں۔
دلاور علی آذر پیشے کے اعتبار سے ایک سنجیدہ اور فعال اردو شاعر ہیں۔ غزل، نظم اور نعت ان کی شعری اصناف میں شامل ہیں، جن میں احساس، داخلی کرب، محبت، انسان دوستی اور روحانی تجربات نمایاں نظر آتے ہیں۔ ان کے شعری مجموعے پانی اور مآخذ ادبی حلقوں میں پڑھے اور زیرِ بحث رہے ہیں، جب کہ ان کی شاعری پر تحقیقی و تنقیدی مقالات بھی تحریر کیے جا چکے ہیں۔ ان کا اسلوب سادہ مگر معنوی گہرائی کا حامل ہے، جس میں روایت اور جدید حسیت کا حسین امتزاج ملتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام سنجیدہ قاری اور نوجوان نسل دونوں میں مقبول ہے۔
ادبی سرگرمیوں کے اعتبار سے دلاور علی آذر مشاعروں اور ادبی محافل میں ایک شناسا نام ہیں۔ وہ پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ بیرونِ ملک بھی مشاعروں میں شرکت کر چکے ہیں، جہاں ان کے کلام کو بھرپور پذیرائی ملی۔ پیدائش کے بعد عملی زندگی کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے انہوں نے کراچی کو اپنی سکونت کے لیے منتخب کیا، جہاں وہ آج بھی مقیم ہیں اور ادبی سرگرمیوں میں سرگرمِ عمل ہیں۔ مجموعی طور پر دلاور علی آذر جدید اردو شاعری کی ایک معتبر اور امید افزا آواز ہیں، جو اپنے فکری تسلسل، شعری وقار اور تخلیقی سنجیدگی کے باعث معاصر اردو ادب میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں